حسب و نسب

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ماں باپ کا خاندانی سلسلہ۔ "میر انیس نے اپنے ذاتی حالات مثلاً حسب نسب مزاج اور انداز شاعرانہ کا ذکر کیا ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، میر انیس، حیات اور شاعری، ١٩١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'حسب' کے آخر پر حرف عطف (و) لگا کر عربی ہی سے ماخوذ اسم 'نسب' لگانے سے مرکب عطفی 'حسب و نسب' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء میں "نثر بے نظیر" میں ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ماں باپ کا خاندانی سلسلہ۔ "میر انیس نے اپنے ذاتی حالات مثلاً حسب نسب مزاج اور انداز شاعرانہ کا ذکر کیا ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، میر انیس، حیات اور شاعری، ١٩١ )

جنس: مذکر